Search Hadith

Video of the week

Traffic

A visitor from Chandigarh viewed '♥ Namaz ke baad ke Azkar ♥' 1 hr 40 mins ago
A visitor from Yekaterinburg viewed '✦ Hadith: Aalim ki fazeelat Aab' 2 hrs 40 mins ago
A visitor from Gatchina viewed 'Al Quran : Jab tum aise logo ko' 2 hrs 41 mins ago
A visitor from Hyderabad viewed 'Hadith : Jis Shakhs par Qarz ho' 3 hrs 2 mins ago
A visitor from Abbottabad viewed 'Mafhum-e-hadith: Aankho ke baal' 3 hrs 4 mins ago
A visitor from India viewed 'Namaz e janaza ka tareeqa-Hadit' 3 hrs 43 mins ago
A visitor from Tabuk viewed 'Kafir ( Disbeliever)' 3 hrs 50 mins ago
A visitor from India viewed '❗Only-Quran-Hadith Quiz 1159❗' 4 hrs 13 mins ago
A visitor from Mumbai viewed 'Al-Quran : Aap ke RABB ki Qasam' 4 hrs 21 mins ago
A visitor from Chandigarh viewed '✦: Hadith : Ghar mein jao to Sa' 4 hrs 21 mins ago

Total Pageviews

4,423,001

Category

Search Hadith

Tuesday, February 27, 2018

Kisi se khauff ya khatre ke waqt padhne ki dua - Allahumm-Akfinihim Bima Shiata






Bismilahirrahmanirrahim

✦ Kisi se khauff ya khatare ke waqt padhne ki dua
-----------
اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ

✦ Allahumm-Akfinihim Bima Shiata

✦ Ya Allah mujhe inse bacha le jis tarah tu chahe. 
Sahih Muslim, Jild 6, 7511
--------
اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ

اے الله مجھے ان سے بچا لے جس طرح تو چاہیں
صحیح مسلم جلد ٦ حدیث ٧٥١١ 
--------------

اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ
अल्लाहुम्मा-अकफिनिहीम बिमा शिअता 

या अल्लाह मुझे इनसे बचा ले जिस तरह तू चाहे. 
सही मुस्लिम, जिल्द 6, 7511
-----------
✦ Dua while you fear from somebody
-----------
اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ
✦ Allahumm-Akfinihim Bima Shiata

✦ O Allah, save me from them however you wish

Sahih Muslim, Book 42, Hadith 7148

--------Full Hadith-----

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا ، اس کا ایک جادوگر تھا ، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا ، اس نے بادشاہ سے کہا : اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، آپ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیجیے میں اس کو جادو سکھا دوں گا ، چنانچہ اس نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیج دیا ، وہ اسے سکھانے لگا ، جب وہ لڑکا ( جادو سیکھنے کے لیے ) جاتا تو اس کے راستے میں ایک راہب تھا ، وہ اس کے پاس بیٹھنے اور اس کی باتیں سننے لگا جو اسے اچھی لگتیں ۔ جب وہ جادوگر کے پاس آتا تو راہب سے گزرتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ جاتا اور جب وہ جادوگر کے پاس جاتا تو وہ ( تاخیر کے سبب ) اس کو مارتا ، اس ( لڑکے ) نے راہب سے اس بات کی شکایت کی ، راہب نے اس سے کہا : جب تمہیں جادوگر سے ڈر لگے تو اس سے کہنا : میرے گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب گھر والوں سے ڈر لگے تو کہہ دینا : مجھے جادوگر نے روک لیا تھا ،

 وہ اسی طرح ( معاملہ چلا رہا ) تھا کہ اسی اثناء میں اس کا سامنا ایک بڑے جانور سے ہوا جس نے لوگوں کا راستہ بند کر دیا تھا ۔ لڑکے نے سوچا کہ آج میں پتہ چلا لوں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب ؟ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا : اے اللہ ! اگر تجھے راہب کا معاملہ جادوگر سے زیادہ پسند ہے تو اس جانور کو قتل کر دے تاکہ لوگ گزر سکیں ، اس نے پتھر مار کر اس جانور کو قتل کر ڈالا اور لوگ ( راستے پر سے ) آنے جانے لگے ، پھر وہ راہب کے پاس آیا اور یہ بات بتائی ۔ راہب نے اس سے کہا : بیٹے ! آج تم مجھ سے افضل ہو ، تمہارا ( اللہ کے ہاں مقبولیت کا ) معاملہ وہاں تک پہنچ گیا جو مجھے نظر آ رہا ہے ۔ اب جلد ہی تمہاری آزمائش ہو گی ۔ جب تم آزمائش میں مبتلا ہو جاؤ تو میری نشاندہی نہ کر دینا ۔ یہ لڑکا مادرزاد اندھے اور پھلبہری کے مریض کو ٹھیک کر دیتا تھا ، اور لوگوں کی تمام بیماریوں کا علاج کر دیتا تھا ، بادشاہ کے ایک مصاحب نے ، جو اندھا ہو گیا تھا ، یہ بات سنی تو وہ بہت سے ہدیے لے کر آیا اور کہا : یہ جو کچھ ہے ، اگر تم نے مجھے شفا دے دی تو سب تمہارا ہے ۔ لڑکے نے کہا : میں کسی کو شفا نہیں دیتا ، شفا اللہ دیتا ہے ، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ سے دعا کروں گا ، اللہ تمہیں شفا عطا فرما دے گا ، وہ اللہ پر ایمان لے آیا اور اللہ نے اسے شفا دے دی ، 

وہ بادشاہ کے پاس گیا اور پہلے کی طرح اس کے پاس بیٹھ گیا ، بادشاہ نے اس سے پوچھا : تمہاری بینائی کس نے لوٹا دی ، اس نے کہا : میرے رب نے ۔ بادشاہ نے کہا : کیا میرے علاوہ تیرا کوئی اور رب ہے ؟ اس نے کہا : میرا اور تمہارا رب اللہ ہے ، بادشاہ نے اسے پکڑ لیا اور مسلسل اسے اذیت دیتا رہا ، یہاں تک کہ اس نے اس لڑکے کا پتہ بتا دیا ، اس لڑکے کو لایا گیا ، بادشاہ نے اس سے کہا : بیٹے ! تمہارا جادو یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ تم مادرزاد اندھوں کو ٹھیک کر دیتے ہو ، پھلبہری کے مریضوں کو تندرست کر دیتے ہو اور یہ کرتے ہو اور یہ کرتے ہو ۔ تو اس نے کہا : میں کسی کو شفا نہیں دیتا ، شفا تو صرف اللہ دیتا ہے ۔ بادشاہ نے اسے پکڑ لیا اور اسے مسلسل اذیت دیتا رہا ، یہاں تک کہ اس نے راہب کا پتہ بتا دیا ، پھر راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا : اپنے دین سے پھر جاؤ ، اس نے انکار کیا تو اس ( بادشاہ ) نے آرا منگوایا اور اس کے سر کے درمیان میں رکھا اور اسے چیرا ، یہاں تک کہ اس کے دو ٹکڑے ( ہو کر ادھر ادھر ) گر گئے ، 

پھر بادشاہ کے مصاحب کو لایا گیا ، اس سے کہا گیا : اپنے دین سے پھر جاؤ ، اس نے بھی انکار کر دیا ۔ اس نے اس کے سر پر بھی آرا رکھا اور اس کو چیر دیا ، اس کے دو ٹکڑے ( ہو کر ادھر ادھر ) گر گئے ، پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا : اپنے دین سے پھر جاؤ ، اس نے انکار کیا تو اس ( بادشاہ ) نے اسے اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا : اس کو فلاں فلاں پہاڑ پر لے جاؤ ، جب تم پہاڑ کی چوٹی پر پہنچو تو ( پھر بھی ) اگر یہ اپنے دین سے پلٹ جائے تو ٹھیک ، ورنہ اس کو اس چوٹی سے نیچے پھینک دو ، چنانچہ وہ اس کو لے گئے اور اسے لے کر پہاڑ پر چڑھ گئے تو اس نے ( دعا کرتے ہوئے ) کہا
اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ
Allahumm-Akfinihim Bima Shiata
اے اللہ ! تو جس طرح سے چاہے مجھے ان سے بچا

، چنانچہ پہاڑ نے ان کو زور سے ہلایا اور وہ ( پہاڑ سے ) نیچے گر گئے ۔:: وہ ( لڑکا ) چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آ گیا ۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا : تیرے ساتھ جانے والوں کا کیا بنا ؟ اس نے کہا : اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا ، چنانچہ اس نے اسے اپنے چند اور ساتھیوں کے سپرد کیا اور کہا : اسے لے جاؤ ، اسے ایک کشتی میں بٹھاؤ اور اسے لے کر سمندر کے وسط میں پہنچو ۔ 
اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو ٹھیک ، ورنہ اسے ( سمندر میں ) پھینک دو ۔ وہ اسے لے گئے ۔ اس نے کہا
اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ
Allahumm-Akfinihim Bima Shiata
اے اللہ ! تو جس طرح سے چاہے مجھے ان سے بچا


 تو کشتی ان لوگوں پر الٹ گئی اور وہ سب غرق ہو گئے ۔ وہ ( لڑکا ) چلتا ہوا بادشاہ کے پاس آ گیا ۔ بادشاہ نے اس سے کہا : تمہارے ساتھ جانے والوں کا کیا بنا ؟ اس نے کہا : اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا ، پھر اس نے بادشاہ سے کہا : تم ( اس وقت تک ) مجھے قتل نہیں کر سکو گے ، یہاں تک کہ جو میں تمہیں کہوں وہی کرو ۔ اس نے کہا : وہ کیا ہے ؟ لڑکے نے کہا : سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرو اور مجھے ایک درخت پر سولی کے لیے لٹکاؤ ، پھر میرے ترکش میں سے ایک تیر لو ، اسے کمان کے درمیان میں رکھو ، پھر کہو : اللہ کے نام پر جو لڑکے کا رب ہے ، پھر مجھے اس کا نشانہ بناؤ ، اگر تم نے اس طرح کیا تو مجھے مار دو گے ۔ 

اس نے سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا ۔ اسے کھجور کے ایک تنے کے ساتھ لٹکا دیا ، پھر اس کے ترکش سے ایک تیر نکالا ، اسے کمان کے درمیان میں رکھا ، پھر کہا : اللہ کے نام سے جو ( اس ) لڑکے کا رب ہے ، پھر اسے نشانہ بنایا تو تیر اس کی کنپٹی کے اندر گھسا ، لڑکے نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر ، تیر لگنے کی جگہ رکھا اور جاں باختہ ہو گیا ۔ اس پر سب لوگ کہہ اٹھے : ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے ، ہم لڑکے کے رب پر ایمان لائے ، ہم لڑکے کے رب پر ایمان لائے ۔ بادشاہ کے پاس آ کر کہا گیا : جس بات سے تم ڈرتے تھے اسے دیکھ لیا ؟ 

اللہ کی قسم ! تمہارا ڈر ( حقیقت بن کر ) تم پر آن پڑا ، لوگوں نے ایمان قبول کر لیا ۔ بادشاہ نے راستوں کے سروں پر خندقوں ( کی کھدائی ) کا حکم دیا تو وہ کھود دی گئیں ، ( ان میں ) آگ بھڑکا دی گئی ۔ اس ( بادشاہ ) نے کہا : جو اپنے دین سے نہ پھرے ، اسے ان میں جلا ڈالو ، یا اس ( ایمان لانے والے ) سے کہا جاتا : اس کے اندر گھسو تو وہ ایسا کر گزرتے ، یہاں تک کہ ایک عورت آئی ، اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا ۔ اس نے اس میں گرنے سے تردد کیا تو اس بچے نے اس سے کہا : میری ماں ! صبر اختیار کر ، تو یقیناً حق پر ہے ۔‘‘

صحیح مسلم ٧٥١١
--------------

Hazrat Suhaib Radi Allahu Anhu se riwayat hai ke
Rasoolullah ﷺ ne farmaya:

"Tum se pehle logon mein ek badshah tha, uska ek jadugar tha. Jab woh jadugar boodha ho gaya, usne badshah se kaha: 'Ab main boodha ho gaya hoon, aap mere paas koi ladka bhej dijiye taake main usko jadoo sikha doon.' Chunancha, badshah ne ek ladka bhej diya jo us se jadoo seekhne laga.

Jab woh ladka (jadoo seekhne ke liye) jata toh raste mein ek raahib (Allah ka ek nek banda) tha, jo usse achi baatein karta. Ladka jab jadugar ke paas jata toh raahib ke paas bhi baithta. Jab woh late hota toh jadugar use marta. Ladke ne raahib se iski shikayat ki. Raahib ne kaha: 'Jab tujhe jadugar se dar lage toh kehna: Mere ghar walon ne roka tha, aur jab ghar walon se dar lage toh kehna: Jadugar ne roka tha.'

Ek din ladke ka samna ek bade janwar se hua jo raste ko block kiye khada tha. Ladke ne socha: 'Aaj main dekh lunga ke jadugar behtar hai ya raahib?' Usne ek pathar uthaya aur dua ki: 'Aey Allah! Agar tujhe raahib ka maamla jadugar se zyada pasand hai, toh is janwar ko maar de taa-ke log guzar sakein.' Phir usne pathar phenka aur janwar mar gaya. Log guzarne lage.

Phir ladka raahib ke paas aaya aur yeh baat sunai. Raahib ne kaha: 'Beta! Aaj tu mujhse behtar hai. Tera maamla ab wahan tak pohnch gaya hai jo mujhe nazar aa raha hai. Ab jald hi tujhe azmish ka samna hoga. Jab tu museebat mein pohnche toh mera pata mat dena.'

Yeh ladka andhon ko dekhne ki taqat wapas dilata aur logon ki bimariyan door karta. Badshah ke ek wazir ko yeh baat pta chali jo khud andha tha. Woh bohot se tohfe le kar ladke ke paas aaya aur kaha: 'Agar tu mujhe shifa de de toh yeh sab tera hai.' Ladke ne kaha: 'Shifa Allah deta hai, agar tu Allah par iman le aaye toh main dua karunga aur Allah tujhe shifa de dega.' Wazir iman le aaya aur Allah ne usko shifa de di.

Jab woh badshah ke paas wapas gaya, badshah ne pucha: 'Teri binai kisne wapas ki?' Usne jawab diya: 'Mere Rab ne.' Badshah ne gussa hokar kaha: 'Kya mere ilawa tera koi aur Rab hai?' Wazir ne kaha: 'Mera aur tera Rab Allah hai.' Badshah ne use giraftar kar liya aur us par zulm karta raha, jab tak usne ladke ka pata na bata diya.

Ladke ko bulaya gaya. Badshah ne kaha: 'Beta! Tera jadoo itna barh gaya hai ke tu andhon ko dekhne ki taqat dilata hai aur bimariyan door karta hai!' Ladke ne kaha: 'Main kisi ko shifa nahi deta, shifa sirf Allah deta hai.' Badshah ne use bhi giraftar kar liya aur use raahib ka pata batane par majboor kiya.

Raahib ko bulaya gaya aur kaha gaya: 'Apne deen se phir jao!' Usne inkari ki toh badshah ne uska sir do tukde kar diya. Phir wazir ko bulaya gaya, us se bhi deen chhodne ko kaha, usne bhi inkar kiya toh uska bhi sir do tukde kar diya.

Phir ladke ko badshah ke sipahiyon ke hawale kiya gaya aur kaha gaya: 'Isse falan pahaad par le jao, agar ye apne deen se phir jaye toh theek, warna isse pahaad se gira do.' Jab woh pahaad par pohnche, ladke ne dua ki:

اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ
Allahumm-Akfinihim Bima Shiata
'Aey Allah! Tu jaise chahe meri hifazat kar.

Phir pahaad hil gaya aur sab sipahi gir kar mar gaye.

Ladka chal kar wapas badshah ke paas aaya. Badshah ne hairan hokar pucha: 'Tere sath jaane walon ka kya bana?' Ladke ne kaha: 'Allah ne mujhe inse bacha liya.'

Phir badshah ne isse ek kashti mein samundar ke beech le jaane ka hukm diya aur kaha: 'Agar ye apne deen se phir jaye toh theek, warna isse pani mein phenk do.' Ladke ne phir dua ki:
اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ
Allahumm-Akfinihim Bima Shiata
'Aey Allah! Tu jaise chahe meri hifazat kar.
 Kashti ulat gayi aur sipahi doob gaye. Ladka phir badshah ke paas wapas aaya.Badshah ne hairan hokar pucha: 'Tere sath jaane walon ka kya bana?' Ladke ne kaha: 'Allah ne mujhe inse bacha liya.'

Phir ladke ne badshah se kaha: 'Tu mujhe maar nahi sakta jab tak meri ek baat na maan le.' Badshah ne pucha: 'Woh kya hai?' Ladke ne kaha: 'Sab logon ko ek meydan mein jama karo, phir mujhe ek darakht se latkao, mere tarkash se ek teer nikalo, use kaman mein rakho aur kehna: Allah ke naam se jo ladke ka Rab hai. Phir mujhe nishana banao, tabhi tu mujhe maar sakega.'

Badshah ne yahi kiya, aur jab teer ladke ki kanpati par laga toh usne haath rakha aur wafat paa gaya. Magar log zor zor se kehne lage: 'Hum ladke ke Rab par iman laye, hum ladke ke Rab par iman laye!' Badshah ne dekha ke log iman le aaye hain, toh usne raste par aag bhadakane ka hukm diya aur kaha: 'Jo apne deen se na phire, use is aag mein daal do!'

Ek aurat apne bachay ke saath ayi. Woh ruk gayi toh uske chhote bachay ne kaha: 'Meri maa! Sabr kar, tu haq par hai!'

(Sahih Muslim 7511)


-----------------

Suhaib reported that Allah's Messenger (ﷺ) thus said:

There lived a king before you and he had a (court) magician. As he (the magician) grew old, he said to the king: I have grown old, send some young boy to me so that I should teach him magic. He (the king) sent to him a young man so that he should train him (in magic). And on his way (to the magician) he (the young man) found a monk sitting there. He (the young man) listened to his (the monk's) talk and was impressed by it. It became his habit that on his way to the magician he met the monk and set there and he came to the magician (late). He (the magician) beat him because of delay. He made a complaint of that to the monk and he said to him: When you feel afraid of the magician, say: Members of my family had detained me. And when you feel afraid of your family you should say: The magician had detained me. It so happened that there came a huge beast (of prey) and it blocked the way of the people, and he (the young boy) said: I will come to know today whether the magician is superior or the monk is superior. 

He picked up a stone and said: O Allah, if the affair of the monk is dearer to Thee than the affair of the magician, cause death to this animal so that the people should be able to move about freely. He threw that stone towards it and killed it and the people began to move about (on the path freely). He (the young man) then came to that monk and Informed him and the monk said: Sonny, today you are superior to me. Your affair has come to a stage where I find that you would be soon put to a trial, and in case you are put to a trial don't give my clue. That young man began to treat the blind and those suffering from leprosy and he in fact began to cure people from (all kinds) of illness. 

When a companion of the king who had gone blind heard about him, he came to him with numerous gifts and said: If you cure me all these things collected together here would be yours. Be said: I myself do not cure anyone. It is Allah Who cures and if you affirm faith in Allah, I shall also supplicate Allah to cure you. He affirmed his faith in Allah and Allah cured him and he came to the king and sat by his side as he used to sit before. The king said to him: Who restored your eyesight? He said: My Lord. Thereupon he said: It means that your Lord is One besides me. He said: My Lord and your Lord is Allah, so he (the king) took hold of him and tormented him till he gave a clue of that boy. The young man was thus summoned and the king said to him: O boy, it has been conveyed to me that you have become so much proficient in your magic that you cure the blind and those suffering from leprosy and you do such and such things. Thereupon he said: I do not cure anyone; it is Allah Who cures, and he (the king) took hold of him and began to torment him. So he gave a clue of the monk. 

The monk was thus summoned and it was said to him: You should turn back from your religion. He, however, refused to do so. He (ordered) for a saw to be brought (and when it was done) he (the king) placed it in the middle of his head and tore it into parts till a part fell down. Then the courtier of the king was brought and it was said to him: Turn back from your religion. Arid he refused to do so, and the saw was placed in the midst of his head and it was torn till a part fell down. Then that young boy was brought and it was said to him: Turn back from your religion. He refused to do so and he was handed over to a group of his courtiers. And he 'said to them: Take him to such and such mountain; make him climb up that mountain and when you reach its top (ask him to renounce his faith) but if he refuses to do so, then throw him (down the mountain). So they took him and made him climb up the mountain and he said: O Allah, save me from them (in any way) Thou likest and the mountain began to quake and they all fell down and that person came walking to the king. The king said to him: What has happened to your companions? He said: Allah has saved me from them. He again handed him to some of his courtiers and said: Take him and carry him in a small boat and when you reach the middle of the ocean (ask him to renounce) his religion, but if he does not renounce his religion throw him (into the water). 

So they took him and he said: O Allah, save me from them and what they want to do. It was quite soon that the boat turned over and they were drowned and he came walking to the king, and the king said to him: What has happened to your companions? He said: Allah has saved me from them, and he said to the king: You cannot kill me until you do what I ask you to do. And he said: What is that? He said: You should gather people in a plain and hang me by the trunk (of a tree). Then take hold of an arrow from the quiver and say: In the name of Allah, the Lord of the young boy; then shoot an arrow and if you do that then you would be able to kill me. So he (the king) called the people in an open plain and tied him (the boy) to the trunk of a tree, then he took hold of an arrow from his quiver and then placed the arrow in the bow and then said: In the name of Allah, the Lord of the young boy; he then shot an arrow and it bit his temple. He (the boy) placed his hands upon the temple where the arrow had bit him and he died and the people said: We affirm our faith in the Lord of this young man, we affirm our faith in the Lord of this young man, we affirm our faith in the Lord of this young man.

 The courtiers came to the king and it was said to him: Do you see that Allah has actually done what you aimed at averting. They (the people) have affirmed their faith in the Lord. He (the king) commanded ditches to be dug at important points in the path. When these ditches were dug, and the fire was lit in them it was said (to the people): He who would not turn back from his (boy's) religion would be thrown in the fire or it would be said to them to jump in that. (The people courted death but did not renounce religion) till a woman came with her child and she felt hesitant in jumping into the fire and the child said to her: 0 mother, endure (this ordeal) for it is the Truth.

Sahih Muslim, Book 42, Hadith 7148 (7511)

No comments:

Post a Comment